باری تعالی
قسم کلام: اسم معرفہ
معنی
١ - خداوند عالم جوکہ بزرگ و برتر ہے۔ بتو! لے چلیں گے تمہیں کعبے لیکن ابھی حکم باری تعالیٰ نہیں ہے ( ١٩٣٢ء، بے نظیر شاہ، کلام بے نظیر، ٢٢٤ )
اشتقاق
عربی زبان میں اسم فاعل 'باری' اور اللہ کے لیے مخصوص اسم صفت 'تعالیٰ' پر مشتمل مرکب ہے۔ عربی سے اردو میں ماخوذ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٦٨٢ء میں "رضوان شاہ و روح افزا" میں مستعمل ملتا ہے۔
جنس: مذکر